نئی دہلی؍ حیدرآباد،23اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)داعش سے تعلق کے الزام میں گرفتار عطاء اللہ رحمن اور مظفرحسین کی ضمانت عرضی پر آج نامپلی کریمنل کورٹ میں بحث کے دوران فاضل جج نے این آئی اے کے وکیل سے کہا کہ وہ عرضی پر جواب دینے کے لیے بار بارمہلت نہیں دے سکتے ۔ جمعیۃ علماء ہند ( حسب ہدایت مولانا محمودمدنی ) کی جانب سے ایڈوکیٹ ایم اے مجیب نے مذکورہ دونوں نوجوانوں کے سلسلے میں کچھ دن قبل عدالت میں ضمانت عرضی داخل کی تھی ، جس پر آج بحث ہوئی ۔ایڈوکیٹ مجیب نے عدالت سے کہا کہ کوئی ایسا ثبوت برآمد نہیں ہو ا کہ ان دونوں کوقید میں رکھا جائے اور نہ ہی این آئی اے وکیل نے اب تک زبانی دعوی سے زیادہ کچھ پیش کیا ہے ۔دوسری طرف عدالت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی کہ ان دونوں کو ایک چھوٹے کمرے میں دن رات قید رکھا جاتا ہے ،جس سے ان کی صحت خراب ہورہی ہے ، جس پر عدالت نے ہدایت جاری کی کہ ان کو دن کے وقت کھلی جگہ پر آنے جانے دیا جائے۔طرفین کی بحث اور این آئی اے کے اصرار پر کہ کچھ وقت اور دیا جائے عدالت نے تین دن کی مہلت دیتے ہوئے اگلی سماعت کی تاریخ۲۶؍ٖاگست طے کی ہے ۔ ایڈوکیٹ ایم اے مجیب نے بتایا کہ عطا ء اللہ رحمن جسے تحقیقاتی ایجنسی نے داعش کا مقامی امیر بتایا ہے ، اسے گرفتاری سے چند دنوں پہلے سے مسلسل یہ نوٹس دی جارہی تھی کہ وہ گواہی کے لیے ایجنسی آفس آئیں، جس دن اس کو گرفتار کیا گیا ، اس دن بھی اسی نام پر بلایا گیا اور اب اسے داعش کا امیر اوراس کے نام پر بیعت لینے والا کہا جارہا ہے، اسی طرح سے مظفر حسین ایک انتہائی غریب شخص ہے ، جو کرایہ کے مکان میں رہتا ہے ، اس کے بارے میں صرف اتنا کہا جاسکتا ہے کہ جس مکان میں وہ رہتا تھا ، اس کا مالک اس معاملے میں پکڑا گیا تو اسے بھی پوچھ تاچھ کے لیے بلاگیا اور اب باضابطہ ملزم بنایا جارہا ہے۔حافظ بیر شبیر احمد صدر جمعےۃ علماء تلنگانہ و آندھراپردیش وناظم اعلی حافظ پیر خلیق صابرنے کہاکہ اس مقدمہ کی پیروی جنرل سکریٹری جمعےۃ علماء ہند مولانا محمود مدنی کی ہدایت پرکی جارہی ہے جو بے قصوروں کی رہائی کے بارے میں کافی سنجیدہ ہیں اور مولانا مدنی نے ملک بھر میں جمعےۃ کی اکائیوں کو ہدایت دے رکھی ہے کہ جہاں کوئی ایسامعاملہ پیش آئے وہ فوری طور سے اقدام کریں ۔مولانا مدنی ان لوگوں میں سے ہیں جوپچھلے پندرہ سالوں سے دہشت گردی کے خلاف مسلسل جدوجہد کررہے ہیں اور انھوں نے حال میں ایک تقریب میں کہا تھا کہ ملت اسلامیہ ہند کو بدنام کرنے والی تنظیم داعش کے قدم ہندستان میں جمنے نہیں دیں گے ۔تاہم وہ اس بات پر تشویش کااظہار کرچکے ہیں کہ داعش کے نام پربے قصورمسلم نوجوانوں کوکمزور بنیاد بنا کر گرفتارکیا جارہا ہے ۔